اتنا سامان تو گٹھڑی میں نہیں آئے گا

اتنا سامان تو گٹھڑی میں نہیں آئے گا
میرا کردار کہانی میں نہیں آئے گا

پریاں رات کی وادی میں نہیں اتریں گی
چاند اب جھیل کے پانی میں نہیں آئے گا

اونچی دیواریں فصیلوں میں بدل جاتی ہیں
سو وہ آباء کی حویلی میں نہیں آئے گا

دھیمے لہجے میں بڑا بول بڑے کام کا ہے
پر یہ آہنگ جوانی میں نہیں آئے گا

خواب کی مدح میں مصروف ہیں آنکھیں لیکن
دل کسی خام خیالی میں نہیں آئے گا

پہلے تعبیر گھڑو، بعد میں سپنا دیکھو
کوئی یوسف تری بستی میں نہیں آئے گا

وقت کو قیمتی ہر شے سے سمجھتے ہیں مگر
وقت دینا کسی گنتی میں نہیں آئے گا

چاند بادل میں چھپا اور دِیا کب کا بجھا
یعنی اب طے ہے وہ کھڑکی میں نہیں آئے گا

ناخداؤں کا، خداؤں کا نہیں ہے پابند
جس نے آنا ہے وہ کشتی میں نہیں آئے گا

جس تصوّر کے تصوّر میں مگن رہتے ہو
وہ کبھی جامہءِ ہستی میں نہیں آئے گا

کلیم باسط

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا