اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا

اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا
وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا

قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو
پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا

الٹ جاتی ہے صورت آئینے میں
دکھائے گا حقیقت آئینہ کیا

بہت نزدیک آتے جا رہے ہو
بچھڑ جانے کا سودا کر لیا کیا

بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو
زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا

تہی محسوس آنکھیں ہو رہی ہیں
نہ جانے آنسوؤں میں بہہ گیا کیا

کسے تکتے ہوئے پتھرا گئے ہو
خلاؤں میں تمہارا کھو گيا کیا

بڑے رنگین سپنے آ رہے ہیں
عدیم اس نیند سے اب جاگنا کیا

عدیم ہاشمی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی