پاکستان نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان
پروردگار کا جتنا شکر ادا کریں اتنا کم ہے کہ اس نے ہمیں ایک آزاد ریاست عطا فرمائی۔ہمارا اپنا ایک سبز ہلالی پرچم ہے جو ہماری آزادی اور بقا کی علامت ہے۔ہمیں یہود کے تسلط اور ہنود کے تعصب سے نجات ملی۔قائداعظم ؒ نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی تھی جو اسلام کی تجربہ گاہ ہو۔جہاں اسلامی آئین کے نفاذ سے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہو۔ہم نے بھی پروردگار سے وعدہ کیا تھا کہ جب آزادی مل گئی تو نظام مصطفیؐ کے سوا ہمارا کوئی آئین نہیں ہو گا۔قرآن کے سوا ہمارا کوئی دستور نہیں ہو گا۔جہاں ایسی حقیقی جمہوریت ہو گی کہ سب کو مساویانہ حقوق ملیں گے۔جہاں امیر غریب کا کوئی فرق نہیں ہو گا۔جہاں مفلس و تونگر سب قانون کو برابر جواب دہ ہوں گے۔جہاں کوئی اپنی طاقت و اقتدار کے بل بوتے پر کسی لاچار کا استحصال نہیں کر سکے گا۔جہاں نا اہل افراد اہلیت والوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔جہاں کسی کو کسی کی تحقیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔جہاں زکوۃ کا ایسا شفاف نظام ہو گا
وہ طائر لاہوتی اغیار کے نرغے میں ہے قید
اقبال جسے لقمۂ ذلت سے چاہتے تھے بچانا
افسوس کہ ہم اس وطن عزیز کو ویسا نہ بنا سکے جیسا سوچ کر ہمارے پرکھوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے دے کر اس کی سرحدوں کی نشاندہی کی تھی۔آج بھی ہندووانہ رسموں پر عمل کرتے ہوئے ہم عار محسوس نہیں کرتے۔جن ہندوؤں سے چھین کربڑی بڑی قربانیاں دے کر ہمارے بزرگوں نے اس وطن عزیز کی بنیاد رکھی تھی آج ہمارے بچے ان کی فلمیں دیکھتے ہیں ان کے گانے سنتے ہیں ان کو آئیدیل بناتے ہیں ان کے کاروبار میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ہائے افسوس صد افسوس۔سن لیجیے،ہمیں صرف پاکستان نہیں قائداعظم کا پاکستان چاہیے۔ہمیں وہ پاکستان چاہیے جو واقعی اسلام کا قلعہ ہو۔جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔عدالتوں میں انصاف ہو۔اسلام کا بول بالا ہو۔آج ہمارے پاس سوائے ندامت اور شرمندگی کے کچھ بھی نہیں۔آج ہم روحِ اقبالؒ سے بھی شرمندہ ہیں اور روحِ جناحؒ سے بھی،بلکہ ہر اس شہید و غازی سے شرمندہ ہیں جس نے اس وطن کے قیام کی خاطراپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے۔ہر ایک کو اپنے ملک کی ترقی،بقا اور سالمیت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر ایک روشن مستقبل بنانے والی راہ پر چلنا ہو گا۔ہر شخص کو پہلے خود ایماندار ہونا ہو گا پھر ہی ایماندار حکمران کا بھی انتخاب ہو سکے گا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی نئی نسل کوجو کہ تاریخ ِمسلمان وپاکستان سے نا آشنا ہے، نصاب کے زریعے لازمی طور پر پاکستان بنانے والوں اور بچانے والوں کی افکار و نظریات سے آگاہ کیا جائے۔ان کے اندر احساس ذمہ داری جگایا جائے۔دولت پرستی اور شخصیت پرستی سے جان چھڑا کر حق و باطل،سچے اور جھوٹے،ایماندار اور خائن کا فرق سمجھایا جائے۔اس قوم کے بچوں کو ذہنی غلامی سے نجات دی جائے۔اس قوم کے تعلیمی معیارکو بڑھایا جائے۔دنیا سے سبقت لے جانے کا ہنر سکھایا جائے۔عملی تعلیم پر زور دیا جائے۔جس دن ہم نے یہ ارادہ کر لیا اس دن راستے کی ساری رکاوٹیں خود بخوددور ہونا شروع ہو جائیں گی اور کوئی ہمیں ترقی کی راہ سے نہیں ہٹا سکے گا۔
اویس خالد