اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے
بسر کرنے کو کافی زندگی ہے

ہم اس سے دل لگا بیٹھے ہیں لیکن
یہ دنیا اس زمیں پر عارضی ہے

سنی ہر بات کی تحقیق کر لو
حقیقت سےکہاں کتنی جڑی ہے

مجھے اب لوٹ کر جانا پڑے گا
کسی نے پیار سے آواز دی ہے

میں تپتی دھوپ میں تنہا نہیں تھا
میرے ساۓ نے مجھ سے بات کی ہے

تمھارے نام سے بڑھتی ہی جاۓ
عجب اس دل کی یہ افسردگی ہے

ملے گی موت ہم کو طے ہوا ہے
کہ ہم نے زندگی کی بات کی ہے

غنی الر حمٰن انجم

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر