عشق کرنا میرے ہمدم

عشق کرنا میرے ہمدم کوئی آساں تو نہیں
کربلا واضح ہے تاریخ میں "پنہاں ” تو نہیں

ایک جملہ میرے ہونے کی سند ٹھہرا ہے
مرے بارے میں وہ بولا کہ "پریشاں ” تو نہیں

دل کی تائید ضروری ہے سبھی جانتے ہیں
سر کا اثبات میں ہل جانا کوئی "ہاں ” تو نہیں

اسکو ہنستا ہوا دیکھوں تو میں ہنس سکتا ہوں
ورنہ اس کرب میں اس بات کا "امکاں ” تو نہیں

میری بخشش کیلئے الجھی ہے جو اللہ سے
دیکھنے دو مجھے”دوشی” وہ مری”ماں ” تو نہیں

ایم اے دوشی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی