عشق سامان بھی ہے بے سروسامانی بھی

عشق سامان بھی ہے بے سروسامانی بھی

اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

ہم بھی ویسے نہ رہے دشت بھی ویسا نہ رہا

عمر کے ساتھ ہی ڈھلنے لگی ویرانی بھی

وہ جو برباد ہوئے تھے ترے ہاتھوں وہی لوگ

دم بخود دیکھ رہے ہیں تری حیرانی بھی

آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح

تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی

یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں

دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی