عشق کی رہ نہ چل خبر ہے شرط

عشق کی رہ نہ چل خبر ہے شرط
اول گام ترک سر ہے شرط

دعوی عشق یوں نہیں صادق
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط

خامی جاتی ہے کوئی گھر بیٹھے
پختہ کاری کے تیں سفر ہے شرط

قصد حج ہے تو شیخ کو لے چل
کعبے جانے کو یہ بھی خر ہے شرط

قلب یعنی کہ دل عجب زر ہے
اس کی نقادی کو نظر ہے شرط

حق کے دینے کو چاہیے ہے کیا
یاں نہ اسباب نے ہنر ہے شرط

دل کا دینا ہے سہل کیا اے میر
عاشقی کرنے کو جگر ہے شرط

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان