اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں
لٹیروں کی اب بھی نشانیاں بہت ہیں

دوسروں سے کیا سروکار ہم کو
ہمارے لیے اپنی پریشانیاں بہت ہیں

جن کا مشکلوں سے واسطہ نہیں
ان کے لیے جہاں میں آسانیاں بہت ہیں

ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس میں
دوسروں کا قصور کم اپنی نادانیاں بہت ہیں

جنہیں شور و غل پسند نہیں رافی
ان کے لیے ویرانیاں بہت ہیں

Related posts

مردانگی

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

پروفیسر محمد فرید