اس سے پہلے کہ خودکُشی ہوجائے

اس سے پہلے کہ خودکُشی ہوجائے
کیوں نہ یہ عشق ملتوی ہوجائے

کل نہ ہونگے تو کون دیکھے گا
جو بھی ہونا ہے وہ ابھی ہوجائے

اب جو دونوں میں ٹھن گئی ہے تو پھر
عقل کو دل پہ برتری ہوجائے

اک ترا شہراک مری خواہش
اک ملاقات سرسری ہوجائے؟

تو جو شاعر ہے تو غزل ہوجائے
گر پیمبر ہے تو وحی ہوجائے

عمران سیفی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان