انسانیت کا سودا

دریاؤں کے بپھرے پانی جب شہروں اور بستیوں کی طرف بڑھتے ہیں تو وہ صرف مٹی اور مکان نہیں بہاتے، وہ انسانی رویوں کے اصل چہرے بھی آشکار کر دیتے ہیں۔ کل جلالپور پیروالا کے بے قابو سیلاب نے زمینوں کو تو ڈبویا ہی، مگر اس سے بھی زیادہ دلوں کو ڈبو دیا۔ وہ لمحہ، جب لوگ زندگی کی آخری امید لیے کشتیوں کی طرف لپکے، انسانی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ثابت ہوا جسے شاید کبھی بھلایا نہ جا سکے۔

تصویر کا منظر دیکھیے: ایک طرف لہریں بے قابو ہو کر گھروں کو نگل رہی تھیں، دوسری طرف کشتی والے کھڑے تھے۔ جو نوٹوں کی گڈیاں تھما سکتا تھا، وہ مسیحائی پا کر پانی کے پار پہنچ گیا۔ لیکن جو خالی جیب اور بھوک سے نڈھال جسم لیے کھڑا تھا، اسے موت کے حوالے کر دیا گیا۔ مائیں بچوں کو گود میں اٹھائے گریہ کرتی رہیں، بزرگ کانپتے ہاتھوں سے التجائیں کرتے رہے، لیکن جواب میں کرخت لہجے اور سخت رویے ملے۔ وہ دن تھا جب موت سے بچنے کی قیمت پانچ ہزار روپے فی کس لگائی گئی، اور انسانیت کا جنازہ انہی کشتیوں پر اٹھا۔

یہ نوحہ محض چند خاندانوں کا نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا نوحہ ہے۔ معاشرتی اقدار اس نہج پر آ چکی ہیں کہ دکھ، درد اور مصیبت میں بھی ہم نے ایک دوسرے کو سہارا دینے کے بجائے کاروبار بنا لیا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں یہ باب ہمیشہ یاد رہے گا کہ ہم نے انسان کو انسان نہیں سمجھا، بلکہ اسے نوٹوں کے عوض تولا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں تھی؟ حکومت اور انتظامیہ کہاں سوئے ہوئے تھے؟ کیا ان کے پاس کشتیوں کا بندوبست نہ تھا؟ کیا ان کے پاس یہ سوچ نہ تھی کہ ایسے مواقع پر نقل مکانی اور بچاؤ مفت اور فوری ہونا چاہیے؟ اگر ریاست بروقت کردار ادا کرتی تو آج کوئی ماں اپنے بچے کے ساتھ لہروں میں ڈوب نہ جاتی، کوئی بزرگ بے یار و مددگار موت کا شکار نہ ہوتا۔

یہ حادثہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اس بے حسی کو آج نہ روکا تو کل کو یہ رویے مزید سنگین اور خوفناک شکل اختیار کریں گے۔ ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ صرف پانی نہیں ڈوبا، انسانیت بھی ڈوب گئی ہے۔

تجاویز اور حل

1. ریسکیو کا مستقل نظام: حکومت کو چاہیے کہ ہر سیلابی علاقے میں پہلے سے کشتیوں، لائف جیکٹس اور ریسکیو کے عملے کا مستقل انتظام کرے تاکہ ایسے مواقع پر عوام کو مجبور نہ ہونا پڑے۔

2. قانون سازی: ایسے موقع پر انسانی جان کے بدلے کرایہ لینے والوں کے خلاف سخت سزا مقرر کی جائے۔ یہ جرم صرف مالی نہیں بلکہ انسانی جان کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

3. ریلیف فنڈز کی شفافیت: امداد اور فنڈز کو براہ راست متاثرین تک پہنچایا جائے، نہ کہ بیوروکریسی اور سیاست کی نذر کیا جائے۔

4. عوامی شعور: مقامی سطح پر کمیونٹی ٹریننگ اور رضاکاروں کا نیٹ ورک بنایا جائے تاکہ بحران کے وقت لوگ ایک دوسرے کے سہارا بن سکیں۔

5. میڈیا کا کردار: میڈیا صرف حادثات کی خبریں نہ دے بلکہ حکومت پر دباؤ ڈالے کہ ریسکیو اور ریلیف کو ایک منظم اور مربوط نظام کا حصہ بنایا جائے۔

یہ سب کرنے سے شاید ہم آنے والے کل کے لیے ایک محفوظ راستہ بنا سکیں۔ ورنہ تاریخ بار بار یہی لکھتی رہے گی کہ جب پانی بڑھا تو انسانیت ڈوب گئی، اور ہم تماشائی بنے کھڑے رہے۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے