ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے
جو بے مثال ہے اس کی مثال کیا رکھتے

جو بے وفائی کو اپنا ہنر سمجھتا ہے
ہم اس کے آگے وفا کا سوال کیا رکھتے

ہمارا دل کسی جاگیر سے نہیں ارزاں
ہم اس کے سامنے مال و منال کیا رکھتے

اسے تو رشتے نبھانے کی آرزو ہی نہیں
پھر اس کی ایک نشانی سنبھال کیا رکھتے

جو دل پہ چوٹ لگانے میں خوب ماہر ہے
ہم اس کے سامنے اپنا کمال کیا رکھتے

ہمارے ظرف کا لوگوں نے امتحان لیا
ذرا سی بات کا دل میں ملال کیا رکھتے

جو اپنے دل سے ارمؔ کو نکال بیٹھا ہے
ہم اس کے سامنے ہجر و وصال کیا رکھتے

ارم زہرا

Related posts

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

ملازمت بہتر یا کاروبار

زندگی بھر فکر کرتے رہے