ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے

ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے
وہ جو چاہے بھی تو آزاد نہیں ہونے کے

دیکھ آ کر کبھی ان کو بھی جو تیرے ہاتھوں
ایسے اُجڑے ہیں کہ آباد نہیں ہونے کے

وصفِ مے اور صفتِ یار کے مضموں کے سوا
ناصحا تیرے سخن یاد نہیں ہونے کے

یارِ بد عہد کا کتنا بڑا احساں ہے کہ ہم
اب کسی کے لئے برباد نہیں ہونے کے

اس جفا جُو کو دعا دو کہ اگر وہ نہ رہا
پھر کسی سے ستم ایجاد نہیں ہونے کے

آج پھر جشن منایا گیا آزادی کا
کل گھروں پر کئی افراد نہیں ہونے کے

اتنے آرام طلب ہو تو محبت میں فراز
مِیر بن جاؤ گے فرہاد نہیں ہونے کے

احمد فراز

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان