ہم بیکسوں کا کون ہے ہجراں میں غم شریک

ہم بیکسوں کا کون ہے ہجراں میں غم شریک
تنہائی ایک ہے سو ہے اس کے ستم شریک

دم رک کے ووہیں کہیو اگر مر نہ جائے وہ
ہو میرے حال کا جو کوئی ایک دم شریک

خوں ہوتے ہوتے ہوچکے آخر کہاں تلک
اب دل جگر کہیں نہیں ہیں تیرے ہم شریک

دل تنگ ہوجیے تو نہ ملیے کسو کے ساتھ
ہوتے ہیں ایسے وقت میں یہ لوگ کم شریک

شاید کہ سرنوشت میں مرنا ہے گھٹ کے میر
کاغذ نہ محرم غم دل نے قلم شریک

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی