ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے

ہم اپنی مرضی کا وحشت کدہ بنائیں گے
خلا بنایا تو سینہ کھلا بنائیں گے

جو لے کے جاتا ہوں خوابوں کے دائروں سے پرے
ہم اپنی رات میں وہ راستہ بنائیں گے

وہ سرد شام میں چھپتا ہوا نحیف بدن
کہیں ملا تو اسے آگ کا بنائیں گے

طریر خاک اڑائیں گے اپنی مٹی سے
اور اسم پڑھ کے اسے فاختہ بنائیں گے

مٹائیں گے کبھی فرق نبود و بود جہاں
اور اک جہان کو بنتا ہوا بنائیں گے

عثمان علوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی