ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے

ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے
شہرِ وحشت! تری چوکھٹ پہ ہی مارے جاتے

تُو اگر بزمِ محبت میں مجھے کرتا قبول
غم مرے دل سے اتر سارے کے سارے جاتے

ہونٹ پہ تیرے مرے ہونٹ کی باتیں ہوتیں
آنکھ میں تیری مری آنکھ کے تارے جاتے

دل لگی عمر بِتانے کا بہانہ ہی تو ہے
ورنہ ہم سادہ ضرر عشق میں مارے جاتے

عمر اشتر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا