خود کو تلاش کر کے ہی گمنام ہو گئے

خود کو تلاش کر کے ہی گمنام ہو گئے
ایسے بھی زندگی میں کئی کام ہو گئے
صورت گری کی ایسی اب عادت پڑی ہمیں
پتھر جو ہاتھ آئے تو اصنام ہو گئے
اب تو خدا بھی اپنا نہیں کر رہا یقیں
اتنے کسی کے پیار میں بدنام ہو گئے
وابستہ اِس قدر ہوئے اِک دوسرے سے ہم
ان کے گنہ بھی اپنے ہی الزام ہو گئے
آئے تھے تُم سے پہلے جو خوابوں کے نغمہ گر
لے کر صدائیں اپنی وہ بے نام ہو گئے

شازیہ اکبر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی