ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی

ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی

وہ پہلا دل وہ پہلی خوش گمانی

اداسی کی مہک آتی ہے مجھ سے

مری تنہائی ہے اتنی پرانی

ہمیں دونوں کنارے دیکھنے میں

توجہ چاہتی ہے یہ روانی

یہ بارش اور یہ پامال سبزہ

نمو پاتی ہوئی اک رائیگانی

محبت ہو گئی اک روز عادلؔ

ہمارا مشغلہ تھا باغبانی

ذوالفقار عادل

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی