ہوتی کچھ عشق کی غیرت بھی اگر بلبل کو

ہوتی کچھ عشق کی غیرت بھی اگر بلبل کو
صبح کی بائو سے لگ لگنے نہ دیتی گل کو

میں نے سر اپنا دھنا تھا تبھی اس شوخ نے جب
پگڑی کے پیچ سے باندھا تھا اٹھا کاکل کو

مستی ان آنکھوں سے نکلے ہے اگر دیکھو خوب
خلق بدنام عبث کرتی ہے جام مل کو

جیسے ہوتی ہے کتاب ایک ورق بن ناقص
نسبت تام اسی طور ہے جز سے کل کو

ایک لحظے ہی میں بل سارے نکل جاتے میر
پیچ اس زلف کے دینے تھے دکھا سنبل کو

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا