ہو گئے ان سے ترک پیام

ہو گئے ان سے ترک پیام

اب تو ہماری صبح نہ شام

پاس مجھے دیکھا تو کہا

آپ کا مطلب آپ کا نام

آپ اور ترکِ بزمِ عُدو

خیر کبھی دیکھیں گے، سلام

جھُک گئیں محشر میں نظریں

ہو گئے اُن کے تیر تمام

قبر کی منزل بے تخصیص

شاہ و گدا کا ایک مقام

حشر کی محفل کیا کہنا

جس میں کسی کی روک نہ تھام

جب سے قمر وہ چھوٹ گئے

ہو گئ شب کی نیند حرام

قمر جلال آبادی

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں