حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ کر

حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ کر
تیری یہ شان و شوکت و توقیر دیکھ کر

تیرا ہی عکس ہم کو نظر آئے چار سُو
یہ حُسن اور حُسن کی تاثیر دیکھ کر

حُسن و جمال کی بھی کوئی انتہا نہیں
بےخود سے ہو گئے تِری تصویر دیکھ کر

جنّت نظیر وادِیاں ، پُرکیف نظارے
آنکھوں کو ٹھنڈ ملتی ہے کشمیر دیکھ کر

دیکھا ہے خواب میں تُجھے جاہ و جلال میں
بتلائے کوئی خواب کی تعبیر دیکھ کر

ہم پر نہ کوئی دبدبہ قائم ہُوا کبھی
جاگیر دار تیری یہ جاگیر دیکھ کر

بھر آتی ہیں “شہناز“ بتا کیوں تِری آنکھیں
راہ چلتے ہُوئے بھی کوئی دلگیر دیکھ کر

 شہناز رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے