ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے

ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
بہت نا مہرباں یہ آسماں ہے

دِلوں پر برف گرتی جا رہی ہے
بدن کا تجزیہ بھی رائیگاں ہے

میں اُس سے بات کرنا چاہتی ہوں
بتاؤ تو سہی وہ اَب کہاں ہے

اَنا کی ریت شامل ہو گئی ہے
ہَوا سے گفتگو اب رائیگاں ہے

مجھے اس کا یقیں ہرگز نہیں تھا
مِری جانب سے اِتنا بدگماں ہے

محبّت اِک ندامت بن گئی ہے
ہماری مختصر سی داستاں ہے

Related posts

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا