ہے ایک ہی جلوہ

ہے ایک ہی جلوہ جو اِدھر بھی ہے اُدھر بھی
آئینہ بھی حیران ہے و آئینہ نگر بھی

ہو نور پہ کچھ اور ہی اِک نور کا عالم
اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیفِ نظر بھی

تھا حاصلِ نظّارہ فقط ایک تحیّر
جلوے کو کہے کون کہ اب گُم ہے نظر بھی

اب تو یہ تمنّا ہے کسی کو بھی نہ دیکھوں
صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی
٭٭٭

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

نوحہ ایک دھرتی کا

اسیرِ بے زباں