ہوا سے دوستی ہم کو

ہوا سے دوستی ہم کو نبھانی آتی ہے
اور اک ہتھیلی پہ سرسوں جمانی آتی ہے

سبھی کو جیتنا ہوتا ہے اک کہانی میں
مجھے تو اس سے بھی اچھی کہانی آتی ہے

کبھی تو جوش میں کچھ ہوش ہی نہیں رہتا
یہ وقت آتا ہے، سب پر جوانی آتی ہے

فلک کو ہاتھ پہ اپنے اٹھا کے رکھا ہے
سروں پہ اپنے زمیں بھی اٹھانی آتی ہے

ہماری جیب میں ہے اس جہان کی کنجی
اور ایک انگلی سے دنیا گھمانی آتی ہے

نیل احمد

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان