ہوا میں ڈھونڈ رہی ہے کوئی صدا مجھ کو

ہوا میں ڈھونڈ رہی ہے کوئی صدا مجھ کو
پکارتا ہے پہاڑوں کا سلسلہ مجھ کو

میں آسمان و زمیں کی حدیں ملا دیتا
کوئی ستارہ اگر جھک کے چومتا مجھ کو

چپک گئے مرے تلووں سے پھول شیشے کے
زمانہ کھینچ رہا تھا برہنہ پا مجھ کو

وہ شہسوار بڑا رحم دل تھا میرے لیے
بڑھا کے نیزہ زمیں سے اٹھا لیا مجھ کو

مکان کھیت سبھی آگ کی لپیٹ میں تھے
سنہری گھاس میں اس نے چھپا دیا مجھ کو

تو ایک ہاتھ میں لے اگ ایک میں پانی
تمام رات ہوا میں جلا بجھا مجھ کو

بس ایک رات میں سر سبز یہ زمین ہوئی
مرے خدا نے کہاں تک بچھا دیا مجھ کو

بشیر بدر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی