ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے

ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے

چراغوں میں نیا پن آ رہا ہے

جمال یار تیرے جھانکنے سے

کنویں سے پانی روشن آ رہا ہے

میں گلیوں میں نکلنا چاہتا ہوں

مرے رستے میں آنگن آ رہا ہے

مجھے شہتوت کی خواہش بہت تھی

مگر مجھ پر تو جامن آ رہا ہے

میاں میں اپنی جانب آ رہا ہوں

خبر کر دو کہ دشمن آ رہا ہے

مجھے خیرات بانٹی جا رہی ہے

مرے ہاتھوں میں برتن آ رہا ہے

گلے میں ہار آنا چاہیے تھا

گلے میں طوق گردن آ رہا ہے

عاطف کمال رانا

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی