ہر وسیلے کو زمانے سے

ہر وسیلے کو زمانے سے جدا سوچتے ہیں
یہ نئی نسل کے بچے ہیں نیا سوچتے ہیں

اتنی فرصت ہی نہیں دیتی غریبی ہم کو
ہم کہاں کچھ بھی کمانے کے سوا سوچتے ہیں

یہ تعلق بھی نبھاتے ہیں تو غیروں جیسا
میرے اپنے ہی مرا اب تو برا سوچتے ہیں

ایک مدت سے قضا کر کے نمازیں ہم لوگ
کیوں مکمل ہی نہیں ہوتی دعا سوچتے ہیں

کھا گیا میری محبت کو بھی رتبہ ان کا
خیر ماں باپ تو اچھا ہی سدا سوچتے ہے

علمہ ہاشمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا