ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے

دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے

بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے

بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے