ہر روز امتحاں سے گزارا

ہر روز امتحاں سے گزارا تو میں گیا

تیرا تو کچھ گیا نہیں مارا تو میں گیا

جب تک میں ترے پاس تھا بس تیرے پاس تھا

تو نے مجھے زمیں پہ اتارا تو میں گیا

یہ چاند یہ چراغ مرے کام کے نہیں

آیا نہیں نظر وہ دوبارہ تو میں گیا

اپنی انا کی آہنی زنجیر توڑ کر

دشمن نے بھی مدد کو پکارا تو میں گیا

تیری شکست اصل میں میری شکست ہے

تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

 

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی