ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے

ہر پہلو سے تیرا اختلاف دکھتا ہے
کتنا حامی ہے میرا، صاف صاف دکھتا ہے

یہ اور بات کہ سب جان کر خاموش رہوں
ورنہ آنکھوں سے تو، سبھی اطراف دکھتا ہے

پوچھتا ہے مجھے، آگ سے محبت کیوں؟
تجھے اوڑھنے کو میاں، گھر لحاف دکھتا ہے

"عاجز” و "شاکر” ہو کر ہی ملے ہے "قربت”
عین شین لگیں دکھنے، تو قاف دکھتا ہے

اس قدم کے پیچھے کی، حقیقت کو بھی کھوج
کیوں میرا قتل کا، بس اعتراف دکھتا ہے

کامل فن ہے چہروں کو پڑھنا حاوی
ٹوٹے دل کا کب کوٸی شگاف دکھتا ہے

طارق اقبال حاوی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا