ہر لب پر آوازہ ہے رُسوائی کا

ہر لب پر آوازہ ہے رُسوائی کا
تم کو کچھ اندازہ ہے رُسوائی کا ؟

اب تک میری آنکھوں سے خُوں رِستا ہے،
زخم ابھی تک تازہ ہے رُسوائی کا۔

ہونٹوں پر تو سُرخی ہے بدنامی کی،
گالوں پر بھی غازہ ہے رُسوائی کا۔

سُن لو ! شہرِ عشق میں داخل ہونے کا،
بس اِک ہی دروازہ ہے، رُسوائی کا۔

عُظمی ! تیری شُہرت ہر سُو پھیل گئی،
شاید یہ "خٙمیازہ” ہے رُسوائی کا۔

عُظمی جٙون

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر