ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے

ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے
درد آتے گئے گھر سمجھ کر مجھے

ہار اس کے گلے کا بنوں گا کبھی
جس نے چھوڑا ہے پتھر سمجھ کر مجھے

اس کی تصویر کا ایک حصّہ ہوں میں
دیکھتا ہے جو منظر، سمجھ کر مجھے

میرے سینے میں مہتاب اترتا گیا
آسماں کے برابر سمجھ کر مجھے

میں تو آساں بہت ہوں مگر پھر بھی تم
بھول جاتے ہو اکثر سمجھ کر مجھے

میں تو لودھی چمکتی ہوئی ریت ہوں
آزمامت سمندر سمجھ کر مجھے

رفیق لودھی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں