ہرگھڑی ہے قیامت کی جیسےگھڑی

ہرگھڑی ہے قیامت کی جیسےگھڑی
موت ہر آن جیسے ہو سر پہ کھڑی

گھرمُقَفَّل ہیں سب گلیاں ویران ہیں
زندگی ڈر کےگھر میں ہے دبکی پڑی

تُو غریبوں کی بابت ! مجھے نا ڈرا
ساری اشرافیہ بھی ہےاوندھی پڑی

قصرِشاہی بھی اتنا ہی آلودہ ہے
غیر محفوظ جتنا مری جھونپڑی

یہ کسی قوم کا مسٸلہ ہی نہیں
ساری دنیا پہ ہے یہ مصیبت کڑی

جو خُدا کی تھی مُنکر وہ انسانیت
حالتِ سجدہ میں ہے سڑک پہ پڑی

تیرے بن میرا کوٸی سہارا نہیں
میری ہر آس ہےاب تجھی سے جُڑی

میں توعاجزسا بندہ ہوں میرے خُدا
تُو ملا دے شِفا کی کڑی سے کڑی

ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان