ہر ایک رُت میں اداس نسلوں‌

ہر ایک رُت میں اداس نسلوں‌ نے خواب دیکھے
وطن میں فصلِ بہار دیکھی گلاب دیکھے

ہر ایک موسم کی ایک جیسی شبیہ دیکھی
سبھی درختوں پہ ایک جیسے عذاب دیکھے

جو بند آنکھوں سے بارشوں میں نہا رہے تھے
کھلی جو آنکھیں تو دشت دیکھا سراب دیکھے

کسے خبر ان اجڑی آنکھوں کا راز کیا ہے
کوئی مسافر کبھی یہ شہرِ خراب دیکھے

وہ جس میں اپنے گھروں کے لٹنے کا تذکرہ ہے
لہو ہے جس کے ورق ورق پر وہ باب دیکھے

اگر وہ فخری! محبتوں کا ثبوت مانگے
تو اس سے کہنا وہ ہجرتوں کی کتاب دیکھے

 

زاہد فخری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان