ہر عیب چھپاتے ہیں

ہر عیب چھپاتے ہیں قباؤں کی طرح ہیں
مخلص ہیں مرے یار وفاؤں کی طرح ہیں ۔

کچھ لوگ بچھڑ کر بھی مرے ساتھ ہیں اب تک
ہونٹوں پہ کئی نام دعاؤں کی طرح ہیں

سامان میں چھتری کی طرح ساتھ رہیں گے
ہم تپتی ہوئی دھوپ میں چھاؤں کی طرح ہیں

لفظوں میں اثر ہے تو کئی لہجے شفا ہیں
کچھ لمس اذیت میں دواؤں کی طرح ہیں

کچھ ہم بھی محبت میں اصولوں کے تھے قائل
کچھ ان کے رویے بھی اناؤں کی طرح ہیں

بارش کی طرح شور مچائیں گے کسی دن
خاموش تعلق جو ہواؤں کی طرح ہیں

فوزیہ شیخ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا