حال نہیں کچھ کھلتا میرا

حال نہیں کچھ کھلتا میرا کون ہوں کیا ہوں کیسا ہوں
مست ہوں یا ہشیار میں ہوں ناداں ہوں یا دانا ہوں

کان سے سب کی سنتا ہوں اور منہ سے کچھ نہیں کہتا ہوں
ہوش بھی ہے بیہوش بھی ہوں کچھ جاگتا ہوں کچھ سوتا ہوں

کیسا رنج اور کیسی راحت کس کی شادی کس کا غم
یہ بھی نہیں معلوم مجھے میں جیتا ہوں یا مرتا ہوں

کارِ دیں کچھ بن نہیں آتا دعویٰ ہے دیں داری کا
دنیا سے بیزار ہوں لیکن رکھتا خواہش دنیا ہوں

یار ہو میرے دل میں اور میں کعبے میں بُت خانے میں
گھر میں وہ موجود ہے اور میں گھر گھر ڈھونڈتا پھرتا ہوں

کچھ نہیں نہیں اور سب کچھ ہوں گر دیکھو چشم حقیقت سے
میں ہوں ظفرؔ مسجود ملائک گرچہ خاک کا پُتلا ہوں

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی