ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم

ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
زمانے کے مقابل ہو گئے ہم

شب تاریک کی زد سے نکل کر
سحر کی ظلمتوں میں کھو گئے ہم

چلو اپنوں نے بھی نظریں بدل لیں
وطن میں بھی مسافر ہو گئے ہم

اسی غفلت نے باقیؔ مار ڈالا
کہ جب تقدیر جاگی سو گئے ہم

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی