ہے ترے عشق کے

ہے ترے عشق کے خمار میں دل
اب نہیں میرے اختیار میں دل

اک زمانہ تھا دل کی سنتے تھے
اب کہاں ہے کسی شمار میں دل

سوز، وحشت، ملال، درد، تڑپ
یوں سمجھیے کہ اختصار میں دل

اب یہ لگتا نہیں کسی بھی جگہ
جانے کس کے ہے انتظار میں دل

حالِ دل کیا کہیں تمہیں سعدیؔ
کب سے اٹکا ہوا ہے یار میں دل

سعید سعدی

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں