ہے روایات محبت کا امیں

ہے روایات محبت کا امیں
تیرے ٹوٹے ہوئے وعدے کا یقیں

کتنے اونچے تھے جہاں سے گویا
آسماں تھی ترے کوچے کی زمیں

ہم نے تیور تو بدلتے دیکھے
پھر کہا آپ نے کیا یاد نہیں

دیکھ کر رنگ تری محفل کا
ہم نے غیروں کی طرح باتیں کیں

حادثہ ہے کوئی ہونے والا
دل کی مانند دھڑکتی ہے زمیں

تنگ آ کر مری خاموشی سے
چیخ اٹھیں نہ در و بام کہیں

دور سے دیکھتے جائیں باقیؔ
زندگی کوئی تماشہ تو نہیں

باقی صدیقی

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا