حدیثِ عشق یہاں معتبر نہیں رہتی

حدیثِ عشق یہاں معتبر نہیں رہتی

نظر میں ہو جو خیانت نظر نہیں رہتی

مریضِ غم پہ اک ایسی بھی شام آتی ہے

کہ چارہ گر کو امیدِ سحر نہیں رہتی

مریض اُن کی صدا سن کے چونک اٹھتا ہے

پھر اس کے بعد کسی کی خبر نہیں رہتی

ہزار باغِ محبت پہ آفتیں ٹوٹیں

یہ شاخِ نخلِ وفا بے ثمر نہیں رہتی

بنائیں اب انہیں رہبر نہ قافلے والے

کہ راہ میں جنھیں اپنی خبر نہیں رہتی

تمام اہلِ گلستاں نے کوششیں کر لیں

بہار حد سے زیادہ مگر نہیں رہتی

قمر جلال آبادی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا