گزر گئے پلوں کو اب

گزر گئے پلوں کو اب خراب تو نہ بولیے
حسین یادیں ہیں انہیں عذاب تو نہ بولیے

مرا کہاں ہے حوصلہ کہ میں جواب دے سکوں
مرے ‘جی’ بولنے کو اب جواب تو نہ بولیے

یہ اجتہادِ انجمن میں پڑھ کے ان خطوط کو
خدا کے واسطے انہیں سراب تو نہ بولیے

نکل گیا ہے موسمِ بہار پھر خزاں کی طور
کہ حالیہ کلی کو اب گلاب تو نہ بولیے

لہو کی بوند بوند تک بدن سے جو نچوڑ لے
تو ایسے حکمران کو جناب تو نہ بولیے

کبھی کبھار پر میں خود میں جھانکتا تو ہوں نا زیب
چناچہ اپنے عکس کو حباب تو نہ بولیے

محمد شاہ زیب احمد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا