کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار روبینہ فیصل کی کتاب ” گم شدہ سائے“ کی رونمائی اور مشاعرہ
رپورٹ :۔ امبرین سعید شارجہ
متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ علم و ادب کے حوالے سے اپنی منفرد حثیت رکھتا ہے شارجہ کا ماحول ، رہن سہن میں اس کے اثرات نمایاں ہیں خصوصاً یہاں موجود لائبریریوں کی تعداد اور میوزیم دیکھنے کے قابل ہیں
معروف شاعر اور ادبی کمیٹی کے سربراہ سلیمان جاذب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی کا افسانہ سماجی ناہمواریوں معاشی اور معاشرتی مجبوریوں، نفسی ونفسیاتی مسائل اور گلوبلائزیشن کی حشر سامانیوں سمیت ان گنت موضوعات کے بحران پر مشتمل ہے۔ دور جدید کے انسانوں کو جو چیلجز درپیش ہیں اس کے اثرات اس صدی کے تخلیق ہونے والے ادب میں نظرآتے ہیں روبینہ فیصل چونکہ اکیسویں صدی کی مصنفہ ہیں اس لئے ان کے فن پاروں میں یہ نمایاں نظرآتے ہیں۔
روبینہ فیصل کی تحریروں میں بالخصوص ان کے افسافوں میں ان کی شخصیت کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک شاعرہ، کالم نگار کی حیثیث سے وہ ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں۔ تاہم ان کے ادبی فن کا اظہار کھل کران کی کہانیوں میں ظاہرہوتا ہے جس کا تازہ ثبوت گمشدہ سائے ہے۔ روبینہ فیصل کی افسانہ نگاری میں ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے امیگریشن کے مسائل سے دوچار شہریوں کی زندگی کی بھرپور عکاسی کی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ روبینہ فیصل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہاکہ ادب کی تخلیق کاروں میں بیرون ملک رہنے والے احسن انداز میں کام کر رہے ہیں
بعد ازاں صدر محفل جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بلاشبہ دیار غیر میں مقیم شاعر و ادیب بہت عمدہ کام کر رہے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مراکز میں موجود ادبا ءان کے فن کے قدر دان نہیں ہیں اور سبھی کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں روبینہ فیصل کی کتاب ”گم شدہ سائے “ بلاشبہ اردو افسانوں میں ایک نیا باب رقم کر ئے گی کیونکہ روبینہ فیصل نے ان موضوعات کو قارئین کے سامنے رکھا ہے جو خال خال ہی نظر آتے ہیں مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ان کی کتاب پر پاکستان کے تمام نامور شخصیات نے رائے دی ہے لیکن رائے زیادہ ہونی چاہئے تھی کیونکہ روبینہ فیصل کے تمام افسانے بہت ہی عمدہ اور ریفرنس کے طور پر پیش کرنے کے قابل ہیں ۔ صباحت عاسم واسطی نے پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی ادبی کمیٹی کی ادب کے لئے خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جس تندہی سے یہ ٹیم کام کر رہی ہے متحدہ عرب امارات میں اس کی مثال کم کم ہی ملتی ہے۔
صدر محفل کے بعد محترمہ روبینہ فیصل کی کتاب ” گم شدہ سائے “ کی رونمائی جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی ، جنرل سیکرٹری پاکستان سوشل سنٹر شارجہ جناب چوہدری افتخار ، ادبی کمیٹی کے سربراہ جناب سلیمان جاذب ، انجینئر محمد احسن رانجھا اور شرافت علی شاہ نے کی”گم شادہ سائے کی مصنفہ روبینہ فیصل بھی اس موقع پر موجود تھیں بعد ازاں پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کی طرف سے چوہدری افتخار اور سلیمان جاذب نے اپنی ٹیم اور ڈاکٹر صباحت عاصم کے ساتھ محترمہ روبینہ فیصل کو اعزازی شیلڈ پیش کی ۔ محترم انعم عادل نے پہلے حصے کے بعد نظامت کے لئے سلیمان جاذب کو اسٹیج پر مدعو کیا اور تقریب کے دوسرے حصے کی نظامت کے فرائض محترم سلیمان جاذب نے بخوبی سرانجام دئیے
اس تقریب کا اہتمام پاکستان سوشل سنٹر شارجہ کے علامہ اقبال ھال میں کیا گیا تھا لیکن حاضرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کے سبب روران تقریب ہی اسے سنٹر کے مرکزی حال میں منتقل کیا گیا اور ادبی کمیٹی کے اراکین نے منظم انداز میں اسے بغیر کسی خلل کے احسن طریقے سے تقریب کے انتظامات مکمل کئے
تقریب میں پیش کئے گئے چند اشعار
جناب صباحت عاصم واسطی
بہایا جائے گا تازہ لہو اب
پرانے داغ دھوئے جا رہے ہیں
نظر آتی نہیں یہ فصل کٹتی
مسلسل بیج بوئے جا رہے ہیں
روبینہ فیصل
محبت کا مضمون ممنوع ہونا چاہئے (طویل نظم کا ایک حصہ)
”جنگل نما معاشعرے میں جہاں انسانی ہڈیاں تول کے بکنے لگ جائیں
زندگی میں غم سچے اور جھوٹی رہ جائیں ہجوم میں لوگ اپنا اپنا خدا ڈھونڈیں
دلوں کی سیاہی ہو فوٹو شاپ سے چھپا لیا جائے “
سلیمان جاذب
کیا تھا صاف ہم نے راستہ اشجار کٹوا کر
کہاں سے روکنے کو راستہ پتے نکل آئے
سید سروش آصف
یہ ہجرتوں کا زمانہ بھی کیا زمانہ ہے
انہیں سے دور ہیں جن کے لئے کمانا ہے
احیاءالاسلام بھوجپوری
سب حفاظت کر کے ہیں مستقل دیوار کی
جب کہ حملہ ہو رہا ہے مستقل بنیاد پر
مسرت عباس
میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے
کیا خبر تھی کہ پرندوں کا نگر بیچا ہے
معید مرزا
کسی کے ماتھے پہ تھوڑی لکھا ہے کون سچا ہے کون جھوٹا
خدا کے بندے پرکھ تو لیتے کسی کو عرض ہنر سے پہلے
احمد جہانگیر داجلی
اب مجھے اپنے ملک جانا تھا
یہ بھی ارباب نے بتانا تھا
خاقان قمر
خدا کو بیچ میں یوں نا گھسیٹ کر لاو ¿
یہ تیرے اور مرے درمیان کا جھگڑا ہے
فرح شاہد
ہو کر شہید دینِ مبیں کو بچا لیا
زندہ ہے آج بھی تو کہانی حسینؓ کی
رانا عامر لیاقت
آو ¿ آنکھیں ملا کے دیکھتے ہیں
کون کتنا اداس رہتا ہے
فیاض اسود
جنہیں اک دوسرے کی تھی ضرورت
وہ سب اک دوسرے کے ہو گئے ہیں
عائشہ شیخ عاشی
دلوں میں کس طرح آخر بھریں گھاو ¿ محبت کے
یہاں چڑھتے اترتے ہیں سدا بھاو ¿ محبت کے
حنا عباس
گر نیک ہوں تو ہوں میں ذرا عیب دار بھی
ماتھے پہ تیرے یونہی نہیں بل پڑے
منور احمد
تجھ کو بھی رو لیتے غم جاناں مگر کیا کیجئے
غم معاش سے فرصت کہاں وقت ہی کم ہے
ابرار عمر
نہ بولتے ہیں نہ سن رہے ہیں جو کہہ رہا ہوں
میں گونگے بہروں میں ایک مدت سے رہ رہا ہوں
میگی اسنانی
تم نے جو بھی کہا ہوا تو نہیں
میرا سچ بولنا برا تو نہیں
سمعیہ ناز
آئنہ دیکھوں تو عکس تیرا پاو ¿ں
مجھ سے بس اتنا سا تعلق رکھنا
نیہا شرما ،
کارواں بہت دھیرے چلتا ہے
ابھی نہ پوچھو مجھ سے جانا کہاں ہے
عبید الرحمن نیازی
دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں
ہم غریبوں کو فقط خواب نظر آتے ہیں
حسین شاہ زاد
آج سنا ہے اک منگتی خیرات چراتے پکڑی گئی
اب تو شہر میں امن ہی امن ہے آج ہوا انصاف بہت
نعمان نومی
زاہد مجھے صبر کی تلقین کر رہا تھا
میںاسے بھوک پیاس بتا رہا تھا
ماہ رخ فاطمہ
بعد مدت کے آئینہ دیکھا
اپنے جیسا ہی اک بشر دیکھا