گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے

گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے
غُنچے کا مُنہ ہے کیا کہ جو پھر اے صبا ہنسے

دِیوانے کو نہیں تِرے پروا، کہ اے پری !
دِیوانگی پہ میری کوئی روئے یا ہنسے

روئے غمِ فِراق میں برسوں ہم، اے فلک
گر وصل کی خوشی میں کبھی اِک ذرا ہنسے

چارہ کرے اگر تِرے بِیمارِ عِشق کا
تدبِیرِ چارہ ساز پہ، کیا کیا قضا ہنسے

جو دِل گرفتہ غُنچۂ تصوِیر ہو ظفر
پھر اُس کو کیا ہنسائے کوئی اور وہ کیا ہنسے

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے