گلوں کے درمیان خواب

گلوں کے درمیان خواب سا منظر ہے
حسن کا ایک دلکش سا دفتر ہے

دھوپ چھاؤں میں رنگ چمکتے ہیں
ہر کونے میں محبت کا منظر ہے

زیب تن وہ سفید چادر، نرمی کی مثال
ہوا بھی اس کا پیامبر ہے

بالوں میں گندھی خوشبو کا جادو
ہر سانس میں کوئی نیا جوہر ہے

قدیم دیواروں کی خاموشی میں
کہانیوں کا کوئی گہرا محور ہے

نگاہیں جھکی ہیں، لبوں پہ سکوت
شاید دل کا کوئی مکمّل سفر ہے

یہ لمحہ ہے یا کسی خواب کی تعبیر؟
زندگی کی یہ ساعت بھی نادر ہے

شاکرہ نندنی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی