گلہری کہ ناری

گلہری کہ ناری

میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر
ایک درخت نظر آرہا ہے ۔۔ہمیشہ ہی نظر آتا ہے ۔۔
اس کے نیچے لیٹی تھکی ہاری گلہری
یو ں پڑی لگتی ہے جیسے ہار گئی ہو
تمام عمریں محبتیں بانٹتے بانٹتے نہ تھکی ہو
مگر
کسی ایک بہت بڑی امید کے بندھنے سے
اور اس کے ٹوٹنے نے اسے نڈھال کر دیا ہو
اس کی نیم وا آنکھوں میں ایک گلہری کا نہیں
ایک ہاری ہو ئی ناری کا وجو د رو رہا ہے

روبینہ فیصل

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا