گرتی ہوئی حویلی سے

گرتی ہوئی حویلی سے باہر نہ ہو سکی
تہذیب گھر اجڑ کے بھی بے گھر نہ ہو سکی

چاہت رئیس زادے کی دامن تو بھر گئی
لیکن کسی کنیز کی چادر نہ ہو سکی

وعدہ تھا انقلاب کے سورج اگائیں گے
اور روشنی چراغ برابر نہ ہو سکی

خوابوں کو بھی یہ ضد کوئی منظر نہ لائیں گے
اور میری آنکھ بھی کبھی پتھر نہ ہو سکی

اپنوں کے درمیاں میں بھی رہے اجنبی سے ہم
دیوار و در کی قید کبھی گھر نہ ہو سکی

قسمت کو پوچھئے تو کٹی عمر چاہ میں
چاہت کو پوچھئے تو مقدر نہ ہو سکی

حالانکہ ایک ابر کا سایہ ہی کیا مگر
طارق یہ چھاؤں بھی تو مقدر نہ ہو سکی

ڈاکٹر طارق قمر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان