غزہ کے سفیر

غزہ کے سفیر — سینیٹر مشتاق احمد خان کی جراتمندانہ کاوش

دنیا کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو قوموں کی غیرت اور انسانیت کی بقا کے امتحان بن جاتے ہیں۔ آج فلسطین اور خاص طور پر غزہ انہی لمحات سے گزر رہا ہے۔ نہتے عوام پر بمباری، معصوم بچوں کی چیخیں، ماؤں کے زخم اور بزرگوں کی آنکھوں میں آنسو — یہ سب کچھ ہمارے عہد کا المیہ ہے۔ دنیا کے بڑے دعوے دار ادارے خاموش ہیں، اور انسانی حقوق کے ٹھیکے دار بھی تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

ایسے میں ایک قافلہ روانہ ہوا ہے، سمندر کے راستے، جسے دنیا Global Sumud Flotilla کے نام سے جانتی ہے۔ اس قافلے کا مقصد صرف امداد پہنچانا نہیں بلکہ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ اسی قافلے میں پاکستان کے ایک جری سپوت، سینیٹر مشتاق احمد خان، بھی شامل ہیں۔ ان کا یہ اقدام محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک انسان دوست، ایمان افروز اور تاریخ ساز قدم ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس مشن میں شامل ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فلسطین اکیلا نہیں۔ امت مسلمہ کے دل آج بھی غزہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ یہ ہمت اور استقلال ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ جب تک ایسے لوگ موجود ہیں جو ظالم کے خلاف ڈٹ جائیں اور مظلوم کا ہاتھ تھامیں، تب تک امید زندہ ہے۔

یہ کالم کسی تنقید کے لیے نہیں بلکہ خراجِ تحسین کے لیے لکھا گیا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس مشن کو صرف خبر سمجھ کر بھلا نہ دیں۔ یہ ہم سب کا امتحان ہے کہ ہم اپنی دعاؤں، آوازوں اور عمل سے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمیں دنیا کے ایوانوں تک یہ بات پہنچانی ہے کہ اسرائیل کے مظالم مزید برداشت نہیں کیے جا سکتے۔

یہ وقت ہے کہ پاکستانی عوام اور پوری امت مسلمہ، سینیٹر مشتاق احمد خان جیسے کرداروں کو سپورٹ کریں۔ یہ صرف ایک شخص کی جدوجہد نہیں، بلکہ پوری قوم اور انسانیت کا پیغام ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ آواز دنیا تک پہنچانی ہے تاکہ اسرائیل کی بربریت رک سکے اور غزہ کے معصوم بچوں کی مسکراہٹیں بحال ہو سکیں۔

آپ سے درخواست کہ اس پر اپنی رائے ضرور تحریر کریں۔ آپ کی آواز بھی فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے۔

زاہد محمود خان

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے