غریبوں کی بیٹی

غریبوں کی بیٹی اگر مرگئی تو

کسانوں کی کھتی اگر جل گئی تو

نہیں بولتی ہے حکومت ہماری

کہ ہے بک گئی یہ حکومت ہماری

اسی ملک میں ماں رالئی گئی ہے

یہیں بچیاں بھی ستائی گئی ہے

مگر کچھ نہیں بولتی ہے حکومت

کہ لب کیوں نہیں کھولتی ہے حکومت ؟

سوالوں کی دنیا بسا کر دلوں میں

زخم اپنے الکھوں دبا کر دلوں میں

ابھی تک مسلمان یہیں رہے رہا ہے

یہ ہر دن تکالیف کیوں کیسے رہا ہے

نعمت اللہ رضا خواؔب

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی