غریب انسان رشتوں میں کمزور؟

ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں انسان کی قدر اکثر اس کی حیثیت، دولت اور مقام سے کی جاتی ہے، نہ کہ اس کے کردار اور خلوص سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بات رشتوں کی آتی ہے تو غریب انسان خود کو کمزور محسوس کرتا ہے، جیسے اس کی محبت، اس کی وفاداری اور اس کا خلوص بھی اس کی غربت کے ساتھ ہی کم تر ہو گیا ہو۔
کیا واقعی غریب انسان رشتوں میں کمزور ہوتا ہے؟ یا یہ صرف ہمارا معاشرتی رویہ ہے جو اسے کمزور بنا دیتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ رشتے دولت کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ یہ دلوں کے تعلق سے جڑے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں ہم نے رشتوں کو بھی معیارِ دولت سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں پیسہ ہو وہاں عزت، اور جہاں غربت ہو وہاں نظر انداز کرنا ایک عام رویہ بن چکا ہے۔
ایک غریب انسان جب کسی رشتے کو نبھانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خلوص دیتا ہے، وقت دیتا ہے، اور دل سے جڑا ہوتا ہے۔ مگر اکثر اسے بدلے میں وہ اہمیت نہیں ملتی جس کا وہ حق دار ہوتا ہے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی نظر انداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ وہ بڑے تحفے یا مالی سہولت فراہم نہیں کر سکتا۔
یہی رویہ آہستہ آہستہ اس کے دل میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے۔ وہ خود کو پیچھے ہٹاتا ہے، بات کرنے سے کتراتا ہے، اور رشتوں میں اپنا حق مانگنے سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔ یوں وہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ کمزور بنا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف، ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب کسی کے حالات بدلتے ہیں، وہی غریب انسان اگر مالی طور پر مضبوط ہو جائے تو اس کے لیے رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ وہی لوگ جو پہلے اسے نظر انداز کرتے تھے، اب اس کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی دراصل رشتوں کی نہیں بلکہ نیتوں کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔
اصل رشتہ وہ ہوتا ہے جو حالات کے ساتھ نہ بدلے، جو غربت اور امیری دونوں میں ایک جیسا رہے۔ جہاں انسان کو اس کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے پہچانا جائے۔ ایسے رشتے کم ہوتے ہیں، مگر یہی رشتے سچے ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم بھی لاشعوری طور پر لوگوں کو ان کی مالی حیثیت کے مطابق اہمیت دیتے ہیں؟ کیا ہم نے بھی رشتوں کو مفاد کا ذریعہ بنا لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ غریب انسان رشتوں میں کمزور نہیں ہوتا، بلکہ ہمارا معاشرہ اسے کمزور بنا دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے رویے بدل لیں، خلوص کو اہمیت دیں، اور انسان کو انسان سمجھیں، تو رشتے خود بخود مضبوط ہو جائیں گے۔

خیر اندیش
نعمان علی بھٹی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی