گھر لوٹ کے روئیں گے

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر
تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں

اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا
ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں

خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی
آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں

قیصر الجعفری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے