غمِ شکوہ حال تک نہ آیا

غمِ شکوہ حال تک نہ آیا

اس کا تو خیال تک نہ آیا

آقاؤں کی مملکت تھی دنیا

سورج کو زوال تک نہ آیا

ٹوٹا ہوں کچھ اس طرح اچانک

پہلے کوئی بال تک نہ آیا

محفل میں ‌نظر چرا لی اس نے

ہم کو یہ کمال تک نہ آیا

کچھ ایسی تھکن کی نیند آئی

خوابوں ‌کا خیال تک نہ آیا

یوں ‌ختم کیا فسانہ ہم نے

لہجے میں ‌ملال تک نہ آیا

 

سعود عثمانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا